اگر عدالت نے بھی ہمیں ریلیف نہ دیا تو ہماری جدوجہد فٹ پاتھ پر جاری ہے گی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس مادر پدر آزادی کی مخالف ہے ، ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی، صدر پی ایف یو جے افضل بٹ

0 8

اسلام آباد (بیورو رپورٹ۔حسن امان)اسلام آباد راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پی ایف یو جے کی کال پر پیکا کالے قانون کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ تیسرے روز بھی جاری رہا جڑواں شہروں کے صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی بھوک ہڑتالی کیمپ سے پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ صدر ار آئی یوجے طارق علی ورک سیکرٹری آصف بشیر چوہدری سابق سیکرٹری جزل پی ایف یو جے ناصر زیدی نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی سیکرٹری نیر علی اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر اسمبلی خواجہ فاروق احمد سابق صدور ار آءیوجے مبارک زیب شہر یار خان سنیر صحافی جہانگیر منہاس راجہ بشیر عثمانی سہیل ملک اور دیگر مقررین نے خطاب کیا جبکہ بھوک ہڑتالی کیمپ میں سابق صدر نیشنل پریس کلب طارق چوہدری ندیم چوہدری۔ گلزار خان مجاہد نقوی رانا فرحان اسلم علی اختر غفران چشتی اظہار خان نیازی بشارت عباسی تنویر کھوکھر راجہ شوکت کمال نوابزادہ خورشید نوابزادہ شاہ علی سحرش قریشی ماہرہ عمران صوبیہ مشرف افشاں قریشی وحید عباسی سرفراز عباسی اقبال مصطفی مجاہد بھٹی وسیم ہاشمی وقار چوہان بشیر راجہ۔ احتشام الحق سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں پاکستان بھر کی صحافی برادری سول سوسایٹی انسانی حقوق کی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جہنوں نے تیسرے روز بھی ہمارے بھوک ہڑتالی کیمپوں میں بھرپور شرکت کی ہے ایک محاذ فٹ پاتھ پر بیٹھنے کا محاذ ہے دوسرا محاذ عدالتوں کا ہے عدالت میں بھی ہم نے کیس داہر کر رکھا ہے اگر اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہمیں کوئی ریلیف ملتا ہے تو ہم اس تحریک کے حوالے سے غوروغوض کریں گے ہائیکورٹ نے ماضی میں صحافیوں سے متعلق مقدمات کا جراتمندی سے فیصلہ دیا ہے اگر عدالت نے بھی ہمیں ریلیف نہ دیا تو ہماری جدوجہد فٹ پاتھ پر جاری ہے گی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس مادر پدر آزادی کی مخالف ہے ہم فیک نیوز کے سب سے بڑے مخالف ہیں ہم اس کو بھی روکنا چاہیتے ہیں اگر ہمیں عدالت سے انصاف نہ ملا تو ہم وکلائ سول سوسایٹی انسانی حقوق کی تنظیموں کی مشاورت سے جواہنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے ہم تاریخ دھرنے کی دیں گے لیکن ختم کرنے کی تاریخ نہیں ہوگی ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوے صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق علی ورک نے کہا کہ ہم پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کے حقوق کی آواز بننے کےلیے میدان میں ہیں پیکا کالا قانون ہے جسے ہم کسی طور قبول نہیں کریں گے ہماری جدوجہد جاری ہے اور ہماری یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کالے قانون کو واپس نہیں لیا جاتا طارق علی ورک نے کہا کہ پیکا کالا اور اندھا قانون ہے جسے ہم نہیں مانتے ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک ہر حال میں جاری رہے گی میں آج کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کرنے پر تمام صحافیوں کا دلی مشکور ہیں یہ قانون راتوں رات پاس کیا گیا سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گی جلد بازی میں اسے پاس کیا گیا جو کہ سراسر ظلم و ناانصافی ہے آزادی صحافت کے حوالے سے پی ایف یو جے کی ایک تاریخ ہے جس نے آزادی اظہار راے کو دبانے کی کوشش کی ہے صحافی متحد ہوکر میدان میں نکلے ہیں۔ اور منزل پر پہنچ کر دم لیں گے صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ پیکا ایکٹ خود سب سے بڑی فیک نیوز ہے ہم اس قانون کو نہیں مانتے اس قانون کے خلاف پاکستان بھر کے صحافی میدان میں نکل چکے ہیں ہم اپنے حق کےلیے میدان میں نکل چکے ہیں سابق سیکرٹری جزل پی ایف یو جے ناصر زیدی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ اس کالے قانون کے خلاف ہر شہری کی یہ جدوجہد ہے آہین نے ہر شہری کو حق دیا ہے کہ وہ آزاد ہے حکمران شہری آزادیاں چھین رہے ہیں حکومت کی یہ روش ہمیں قبول نہیں ہے جمہوری حقوق کےلیے ہماری قیادت نے ماضی میں بہت قربانیاں دی ہیں ہم ان قربانیوں کو راہیگاں نہیں جانے دیں گے ہم کسی کو اپنی آواز دبانے نہیں دیں گے کسی کو ہم اپنے قلم چھیننے نہیں دیں گے پورے پاکستان میں صحافی احتجاج پر ہیں حکمران ہمیں جیلوں میں ڈال سکتے ہیں لیکن ہماری آواز نہیں دبا سکتے پی ایف یو جے کی لیڈر شپ یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس سے پہلے بھی ہماری آواز دبانے کی کوشش کی گی ہے لیکن وہ آواز دبانے میں ناکام رہے ناصر زیدی نے کہا کہ پیکا قانون کے حوالے سے سٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی گی ہے اب آپ درباری صحافت کرسکتے ہیں آپ تنقیدی جائزہ نہیں لےسکتے شخصی آزادیاں ختم کردی گی ہیں ہم اس کالے قانون کو تسلیم نہیں کرتے سیکرٹری ار آءیو جے آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ ار آءیوجے۔ کالے قانون کے خلاف صحافیوں کی ترجمانی کا حق ادا کررہی ہے ہم پیکا جیسے کالے قانون کو کسی طور تسلیم نہیں کریں گے اور اس حوالے سے ہر محاذ پر جدوجہد جاری رہے گی سابق صدر ار آءیو جے مبارک زیب نے کہا کہ قانون کی فلاسفی کو سمجھنا چاہیے یہ قانون صرف اور صرف فیک نیوز کےلیے نہیں ہے اس کے اندر بہت ساری چیزیں ہیں یہ قانون راتوں رات پاس کرایا گیا ہے ڈس انفارمیشن اس سے رکے گی نہیں بلکہ ڈس انفارمیشن بڑھے گی یہ قانون صحافیوں کے خلاف ہی استعمال کیا گیا ہے اس قانون کے ذریعے آزادی اظہار راے کو حکومت دبانا چاہتی ہے عامر سجاد سید نے کہا کہ پی ایف یو جے اور ار آءیوجے کی قیادت کو پیکا کے خلاف آواز اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں حکومت نے گزشتہ سال بھی پیکا قانون لایا ہم نے اس کالے قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا ہم آج بھی میدان میں ہیں حکومت ہماری آواز کو دبانے کےلیے فیک تنظیمیں کھڑی کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے شفقت وڑاہچ نے کہا کہ یہ کالا قانون آزادی کی آوازوں کو روکنے اور بند کرنے کےلیے ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں خیبر سے کراچی تک ورکرز اس کالے قانون کے خلاف جدوجہد کریں گے اور ہم پی ایف یو جے کے ساتھ ہیں ار آءیوجے کے سابق صدر شہر یار نے کہا کہ اس قانون کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں ہم نے ماضی میں جیلیں کاٹی ہیں کوڑے کھاے ہیں ہماری تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے کبھی ہم نے اپنے سر نہیں جھکاے نیشنل پریس کلب کی سیکرٹری نیر علی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ار آءیوجے نے صحافیوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے کالے قانون کے خلاف صحافی برادری میدان میں نکل چکی ہے اب صحافیوں کی آواز دباءنہیں جاسکے گی بھوک ہڑتالی کیمپ کے اختتام پرنیشنل پریس کلب سے شہید ملت سیکٹریٹ تک پرامن ریلی نکالی گی جس میں پیکا ٹھاہ ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں کے پرجوش نعرے لگائے گے شہید ملت سے واپس نیشنل پریس کلب کے سامنے ریلی اختتام پذیر ہوئی

Leave A Reply

Your email address will not be published.