راولپنڈی کے مختلف ہسپتالوں سے انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ کا دھندھا عروج پر

0 12

کچرے کا ٹھیکہ لینے والے انفیکٹڈ مال خرید کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگیں

راولپنڈی ( حسن امان سے ) تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں سے انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ لوکل کباڑ خانوں پر خرید و فروخت کرنے کا دھندھا عروج پر پر اس کی روک دام کے لیے کوئی بھی سامنے انے کو تیار نہیں دارا انوائرمنٹ کی جانب سے انفیکٹڈ بائو میڈیکل ویسٹ کی گاڑیوں کو روکا تو جاتا ہے لیکن ذاتی مفاد حاصل کر کر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پورے پاکستان میں انتہائی خطرناک بیماریاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں ٹیم یا نثار کی جانب سے کمپلین کے باوجود اب تک کوئی بھی کاروائی ان افراد کے خلاف نہیں ہوئی جو کہ سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں سے کچرے کہ ٹھیکے کی اڑ میں انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ عام کباڑ خانوں پر فروخت کر رہے ہیں راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں قائم گلی محلوں کے کباڑ خانوں میں انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ سرعام فروخت ہو رہی ہے ذرائع کا دعوی ہے کہ ان کباڑ خانوں اور اخوان بشندوں کی سرپرستی انوائرمنٹ انسپیکٹر کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی انکوائری کی صورت میں چند دنوں کے لیے ان کباڑ خانوں کو سیل کر کر سب اچھا ہے کی رپورٹ اعلی افسران تک پہنچا دیتے ہیں اور ان کی انکھوں میں دھول جھونکتے ہیں ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ کا کام کرنے والے شاہ محمد ۔اشفاق بوس ۔عباس اور عزت خان نامی کباڑ خانے کے مالک نجی کمپنی جو کہ انفیکٹڈ بائیو میڈیکل ویسٹ کو تلف کرنے کی غرض سے ہسپتالوں سے اکٹھا کرتی ہے ان کے ڈرائیور کی ملی بھگت سے یہ مال تلف ہونے کی بجائے ان کباڑ خانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جن سے کچھ معاوضے کی بعد انتہائی خطرناک بائیو میڈیکل ویسٹ ان کباڑیوں کو دے دی جاتی ہے ذرائع کے مطابق شاہ محمد کی جانب سے انوائرمنٹ افیسر کے اوپر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کے متعلقہ افیسر کی جانب سے اس خطرناک غیر قانونی کاروبار کو پوری طرح سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جس کے عوض متعلقہ افیسر شاہ محمد سے ایک معقول معاوضہ ہر مہینے حاصل کرتا ہے ۔
اگر انوائرمنٹ افیسر اور متعلقہ اشخاص اپنا کوئی بھی موقف دینا چاہیں تو ادارہ مناسب جگہ فراہم کرے گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.